Label » Khakpaeaauliya

​اَللّهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيّدِنا وَمَولانَا مُحَمَّدٍ صَاحِبِ التَّاج وَالْمِعرَاج وَالْبُراق وَالعَلَمْ دَافِع البَلاءِ وَالوَبَاءِ وَالقَحطِ وَالمَرَضِ وَاَلَم​

​اَللّهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيّدِنا وَمَولانَا مُحَمَّدٍ صَاحِبِ التَّاج وَالْمِعرَاج وَالْبُراق وَالعَلَمْ دَافِع البَلاءِ وَالوَبَاءِ وَالقَحطِ وَالمَرَضِ وَاَلَم

​صاحبِ تاج وہ، شاہِ معراج و، شہسوارِ براق و امیرِ عَلَم،​
دافعِ ہر بلا، دافعِ ہر وبا دافعِ قحط وامراض و رنج و الم

اَللّهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيّدِنا وَمَولانَا مُحَمَّدٍ صَاحِبِ التَّاج وَالْمِعرَاج وَالْبُراق وَالعَلَمْ دَافِع البَلاءِ وَالوَبَاءِ وَالقَحطِ وَالمَرَضِ وَاَلَم

صاحبِ تاج وہ، شاہِ معراج و، شہسوارِ براق و امیرِ عَلَم،
دافعِ ہر بلا، دافعِ ہر وبا دافعِ قحط وامراض و رنج و الم

اِسمُه مَكتُوبٌ مَرفوعٌ مَشفُوعٌ مَنقُوشٌ في اللَّوحِ وَالقَلَم

اسم لکھا گیا، اسم اونچا ہوا، اسم مُہرِ قبولِ شفاعت بھی ہے،
اسم کی برکتیں، اسم کی رونقیں، اسم لوح و قلم کی امانت بھی ہے

سَيِّد العَربِ وَ العَجَم جِسمُه مُقَدسٌ مُعَطَرٌ مُطَهَّرٌ مُنورٌ في البَيتِ وَالحَرَم

کیاعرب کیاعجم سب کے سردار ہیں، سب کے سردار کا ہے مقدس بدن،
حرم و کعبہ کو وہ جو منور کرے، وہ مہکتی وہ پاکیزہ سی اک کرن

شَمسِ الضُحٰى بَدرِ الدُّجٰى صَدر العُلٰى نُورِ الهُدٰى

چاشت گاہوں کا سورج وجود آپ ﷺ کا، آپ ﷺ ہر شب کی ظلمت کے ماہتاب ہیں،
صدر بزمِ بلندی و رفعت کے ہیں، راہ گزارِ ہدایت کے ماہتاب ہیں

كَهفِ الوَرٰى مِصْبَاحِ الظُّلَم جَميلِ الشِّيَم شَفيعِ الاُمَم

ساری مخلوق کی ہیں وہ جائے اماں، ساری تاریکیوں کے وہ روشن چراغ،
نیک طینت ہیں وہ، نیک اطوار ہیں ان کے ہاتھوں میں ہیں بخششوں کے ایاغ

صَاحِبِ الجُودِ وَالكَرَم وَالله عَاصِمُهُ وَجبريلُ خَادِمُه والبُراقُ مَركَبَه

سَر سے پیروں تلک وہ کرم ہی کرم، رب حفاظت کرے بالیقیں آپ ﷺ کی،
اُن کے خدمت گزاروں میں جبریل ہے، اور سُواری براقِ حسیں آپ ﷺ کی

وَلمعَراجُ سَفَره وَسِدرَةُ المُنتهٰى مَقامُه وَقابَ قَوسَينِ مَطلُوبُه

سفر اُنکا ہے معراج اور سدرۃ المنتہٰی مستقر اور مقام اُن کا ہے،
قاب قوسین کا مرتبہ اُنکا مطلوب ہے اور دارالسّلام اُن کا ہے

وَالمَطلُوبُ مَقصُودُه وَالمَقصُودُ مَوجُودُه سَيّدِ المُرسَلينَ

اور مطلوب ہی اُن کا مقصود ہے اور مقصود ہی اُن کا موجود ہے،
آپ ﷺ سارے رسولوں کے سردار ہیں، آپ ﷺ کا صرف اللہ معبود ہ

خَاتَم النَبيّنَ شَفيع المُذنِبينَ اَنيسِ الغَريْبينَ رَحمًةٍ لِّلعٰالَمينَ

بعد میں سارے نبیوں کے آئے ہیں وہ، بخشوائیں گے ہر اِک گناہگار کو،
ہر مسافر کی کرتے ہیں غمخواریاں، رحمتیں بانٹتے ہیں وہ سنسار کو

رَاحَة ِ العَاشِقينَ مُرَادِ المُشتاقينَ شَمس العَارِفينَ سِراجِ السَّالِكينَ

عاشقوں کے دلوں کی وہ تسکین ہیں، اورمُرادِ ہر اِک صاحبِ شوق کی،
حق شناسوں کےخورشید وخاور ہیں وہ، سالِکینِ رہِ عشق کی روشنی

مِصباح المُقرَّبينَ مُحبِّ الفُقرآءِ والغُرَباءِ والمَسَاكينَ سَيّد الثَّقَلين نَبّي الحَرَمَين اِمام القِبلتَين

پیار محتاج ومفلس سے مسکین سے، ہر مقرب کی وہ رہنمائی کریں،
جن و انساں کے سرادر دونوں حرم دونوں قبلوں کی وہ پیشوائی کریں

وَسيلَتَنا في الدَّارَين صَاحِبِ قابَ قَوسَين مَحبُوب رَبِّ المَشرقَين وَ رَبِّ المَغربَين

دنیا اورآخرت کا وسیلہ ہیں وہ ، رتبہِ قابَ قوسین جن کو مِلا،
دونوں ہی مشرقوں مغربوں کا وہ رب، حاصل اُن کو خطاب اُسکے محبوب کا

جَدِّ الحَسَنِ وَالحُسَين مَولانا وَمولى الثَقَلين اَبي القَاسِمِ مُحَمَدِ بن عَبدِ الله نُور مّن نُورِ الله

جدِّ امجد ہیں حسنین کے اور ہر جن و انساں کے آقا و مولٰی ہیں وہ ،
والد قاسم کے بیٹے ہیں عبداللہ کے اور نورِ الہٰی کا حصّہ ہیں وہ

ِياايُها المُشتَاقُونَ بنُورِ جَمَالهِ صَلُّوا عَليه وآله وَسَلّمُوا تَسليما۔

اے فدایانِ نورِ جمالِ نبی ﷺ ، آپ ﷺ پر آل و اصحاب پر صبح و شام،
جیسے حق بھیجنے کا ہے بھیجو بصد احترام و محبت درود و سلام

Khakpaeaauliya

Sultan e Karbala Ko Humara Salam Ho

سلطانِ کربلاؑ کو ہمارا سلام ہو
جانانِ مصطفیٰ ﷺ کو ہمارا سلام ہو

عبّاسِؑ نامدار  ہیں زخموں سے چُور چُور
اُس پیکرِ رضا کو ہمارا سلام ہو

اکبرؑ سے نوجوان بھی رَن میں ہوئے شہید
ہم شکلِ مصطفیٰ ﷺ کو ہمارا سلام ہو

اصغرؑ کی ننھی جان پہ لاکھوں درود ہوں
مظلوم و بے خطا کو ہمارا سلام ہو

بھائی، بھتیجے، بھانجے سب ہو گئے نثار
ہر لعلِ بے بہا کو ہمارا سلام ہو

ہو کر شہید قوم کی کشتی ترا گئے
امّت کے ناخداؑ کو ہمارا سلام ہو

ناصر ؔولائے شاہؑ میں کہتا ہے بار بار
مہمان کربلا کو ہمارا سلام ہو

Khakpaeaauliya

Khabaram Raseeda Imshab

خبرم رسیدہ امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدائے راہے کہ سوار خواہی آمد

میرے محبوب مجھے خبر ملی ہے کہ تو آج رات کو آئے گا
میر ا سراُس راہ پر قربان جس راہ پر تو سواری کرتا آئے گا

بلبم رسیدہ جانم تو بیا کہ زِندہ مانم
پس ازاں کہ من نمانم بِچہ کار خواہی آمد

میری جان ہونٹوں پر آگئی ہے ، تو آجا کہ میں زندہ رہوں
پھر جب میں نہ رہوں گا تو کس کام کے لئے آئے گا

غم و غصہ فراقت بکشم چنانکہ دانم
اگرم چو بخت روزے بہ کنار خواہی آمد

تیری جدائی کا غم اور دکھ بس میں ہی جانتا ہوں
جس دن تو پہلو میں آئے گا سب غم بھلا دوں گا

می تست خون خلقے و ہمی خوری دما دم
مخور این قدح کہ فردا بہ خمار خواہی آمد

تیری شراب تو عاشقوں کا خون ہے اور تو لگاتار پیتا جا رہا ہے
اس پیالے کو ترک کر دے کہ کل تو نے بھی خماری میں آجانا ہے

کششے کہ عشق دارد نگزاردت بدینساں
بہ جنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد

عشق کی کشش بے اثر نہیں ہوتی
جنازہ پر نہ سہی مزار پر تو آئے گا

ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بہ امید آں کہ روزے بشکار خواہی آمد

صحرا کے ہرن اپنے ہاتھوں میں اپنا سر اٹھا کے پھر رہے ہیں
اس امید پر کے تو کسی روز شکار کے لئے آئے گا

بہ یک آمدن ربودی دل و دین و صبرِ خسرو
چہ شود اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد

تیری ایک آمد پر خسرو کے دل وجان دین دنیا چلے گئے
کیا ہو گا جب اسی طرح دو تین با ر آئے گا

کلام: امیر خسروؔ

Khakpaeaauliya

Nami Danam Che Manzil

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم
نہ میں جانو! تھی کیا منزل ، جہاں کل رات کو میں تھا
بہر سو رقص میں بسمل ، جہاں کل رات کو میں تھا

پر ی پیکر نگاری ، سرو قد ، لالہ رخساری
سراپا آفت دل بود شب جائے کہ من بودم
نگار اک سرو قد و لالہ رخسار و پری پیکر
کیے آفت برپا در دل ، جہاں کل رات کو میں تھا

رقیباں گوش بر آواز ، او در ناز،من ترساں
سخن گفتن، چہ مشکل بود شب جائے کہ من بودم
رقیباں گوش برآواز ، وہ در ناز، میں ترساں
تھی کرنی بات بھی مشکل، جہاں کل رات کو میں تھا

خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو
محمد ﷺ شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم
خدا خود میر مجلس لامکاں اندر تھا خسرو ، اور
محمّد ﷺ شمع محفل، جہاں کل رات کو میں تھا

کلام: امیر خسروؔ
منظوم ترجمہ: طارق اکبر

Khakpaeaauliya

Zehaal e Miskeen, Makun Taghaful

زِحالِ مسکیں، مکن تُغافل، دُرائےنیناں، بنائے بتیاں
کہ تابِ ہِجراں، ندارمِ جاں، نا لیہو کاہے لگائے چھتِیاں
اس غریب کے حال سے تغافل مت برت ،آنکھیں نہ پھیر باتیں بنا کر
میری جاں اب جدائی کی تاب نہیں، مجھے اپنے سینے سے کیوں نہیں لگا لیتے

شبانِ ہجراں دراز چوں زلف، بروزِ وصلت چوں عمر کوتاہ
سکھی پِیا کو جو میں نا دیکھوں، تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
جدائی کی راتیں زلف کی مانند دراز اور وصال کے دن عمر کی مانند مختصر
اے دوست محبوب کو دیکھے بِنا یہ اندھیری راتیں کیونکر کاٹوں

یکایک از دل دو چشم جادو، بصد فریبم بہ بردِ تسکیں
کسے پڑی ہے جو سناوے، پیارے پی کو ہماری بتیاں
پلک جھپکنے میں وہ دو جادو بھری آنکھیں میرے دل کا سکون لے اُڑیں
اب کسے پڑی ہے کہ جا کر محبوب کو ہمارے دل کا حال سنایۓ

چوں شمع سوزاں، چوں زرہ حیراں، ہمیشہ گرِیاں بہ عشقِ آں مہ
نا نیند نیناں، نا آنگ چیناں، نا آپ آویں، نا بیجھیں پتیاں
میں عشق میں جلتی ہوئی شمع اور ذرہ ٔ حیراں کی طرح ہمیشہ فریاد کر رہا ہوں
نہ آنکھوں میں نیند نہ تن کو چین کہ نہ تو وہ خود آتے ہیں نہ کوئی پیغام بھیجتے ھیں

بہ حق روزِ وصال دلبر، کہ داد مارا فریب خسرو
سپیت من کے ورائے راکھوں، جو پاؤں پیا کی کھتیاں
خسرو تو جانتا ہے کس کے ملنے کی امید میں بیٹھا ہے؟ جس کی یاد نے تجھ ہر چیز سے بیگانہ بنا دیا ہے
میرا من اسی کی یادوں میں مست رہتا ہے کہ کوئی یار کا رازداں ملے تو اسے کہوں کہ میرے محبوب تک میری عرضی پہنچا دینا۔

حضرت امیر خسرو

Khakpaeaauliya